For accurate view of Quranic text used in this blog please download our Free Unicode Quranic Font noorehira.ttf

Friday, July 30, 2010

We make no distinction between one another of His Messengers

The Messenger (Muhammad ﷺ) believes in what has been sent down to him from his Lord, and (so do) the believers. Each one believes in Allah, His Angels, His Books, and His Messengers. They say, "We make no distinction between one another of His Messengers" - and they say, "We hear, and we obey. (We seek) Your Forgiveness, our Lord, and to You is the return (of all)." (Al-Baqara 285)

Commentary:
The first seven words of this verse admire the Holy Prophet SAW . It may by noted that the verse does not address him by his name, but, by calling him ‘Rasul’, his honour and dignity have been made clear. The word, ‘the believers’ follows immediately after that. It means that just as the Holy Prophet SAW firmly believes in the revelation (Wahy) from Allah, so do the true Muslims in general. The style chosen for this sentence is also word consideration. The major part has been used to describe the state of th e’iman’ (belief) of the Holy Prophet SAW, then, the ‘iman’ (belief) of the general Muslims has been described separately. This indicates that, although the Holy Prophet SAW and all Muslims share in the wealth of ‘iman’ as such, still there is a great difference between the two in terms of the relative degrees of ‘iman’. The knowledge of the Holy Prophet SAW is based on seeing and hearing while the knowledge of other Muslims takes the form of ‘iman’ bi l’ghayb or ‘believing without seeing’ as based on the ‘ru’yat’ or ‘seeing’ of the Holy Prophet SAW.

After that some details of the ‘iman’ (belief) which was common between the Holy Prophet SAW and the Muslims in general. This ‘iman’ consisted of the belief that Allah Almighty does exist and that He is One and that He is endued with all the perfect attributes, and that there are angels, and that all Scriptures and all Messengers send by Allah are true.

After that it was clearly stressed that the ‘believers’ of this ummah (Muslim community) will do nothing was done by past communities accepting some as prophets and by denying that status to others.

Praised here is the distinction of this ummah which is made of people who do not reject any prophet. This is followed by word of admiration for what the noble companions had sad when so directed by the Holy Prophet.

“We have listened, and obeyed. Our Lord, Your pardon! And to You is the return.” (Maarif ul Quran by Mufti Muhammad Shafi RA)

Deal With Equity

Allah does not forbid you be deal justly and kindly with those who fought not against you on account of religion and did not drive you out of your homes. Verily, Allah loves those who deal with equity (Al-Mimtahina 9)

It is recorded in Sahih of Bukhari, on the authority of Sayyidah Asma bint Abu Bakr, that her mother arrived in Madinah from Makkah in the state of disbelief. According to a narration in Musand of Ahmad, this incident occurred when peace treaty of Hudaibiyah with the Makkan Quraish had been concluded and was in force. Her Mother’s name was Qutailah. She brought gifts for her daughter Sayyidah Asma, but she refused to accept them. She did not even allow her to enter her house unless she sought the permission of the Holy Prophet SAW. Sayyidah Asma asked the Holy Prophet SAW how to treat her mother who came her while still disbeliever. The Holy Prophet SAW advised her to treat her kindly, politely and courteously. On that occasion, the following verse was revealed (Allah does not forbid you from doing good and justice to those who did not fight you because of faith….)

Some reports indicate that Sayyidah Asma’s mother Qutailah was divorced by Sayyidna Abu Bakr in the Days of Ignorance. Sayyidah Asma’s sister, Sayyidah Aishah was born of the second wife of Abu Bakr, namely Umm Ruman, who had embraced Islam.

The verse directs that justice and good behavior should be maintained with those unbelievers who did not fight the Muslims. As for justice, it is obligatory to maintain with every non-Muslim, whether he is a citizen of an Islamic State, or the Muslims have peace agreement with him, or a citizen of an un-Islamic State, even though he is at war with Muslims. Rather, Islam enjoins upon Muslims to do justice even to animals. We are not allowed to lay a burden on them more than they can bear. We need to take care of their fodder and comfort. The focus of the verse, therefore, is upon the direction that they should by treated, not only with justice, but also in good and courteous manner.
Maarif ul Quran by Mufti Muhammad Shafi RA)

حلالہ اور تین طلاق ۔ اتباع اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم بالخصوص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی مسلک اعتدال و حق ہے۔

معاشرے میں عام چلن ہے کہ اگر کوئی عورت کو طلاق دیتا ہے تو اکٹھی تین طلاق دے دیتا ہے جو کہ اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سخت نا پسندیدہ عمل ہے۔

ضروری ہے کہ معاشرے میں اور اپنے اپنے حلقہ اثر میں اس بات کو خوب مشتہر کیا جائے کہ طلاق کا مقصد ایک طلاق دے دینے سے بخوبی حل ہو جاتا ہے اور طلاق واقعی ہو جاتی ہے۔ مگر اس سے جو سب سے بڑا فائدہ حاصل ہوتا ہے وہ یہ کہ اگر و جوڑا پھر سے ملنا چاہے تو بغیر حلالہ کے مل سکتا ہے۔

یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اس اہم معاشرتی مسئلے پر ہر مسلمان سے بات کریں اور طلاق دینے کے سنت طریقے کو زندہ کریں۔اور اپنے معاشرے میں اس طرح سے صریحًا خدا کی نافرمانی ہوتی ہے کو ختم کریں اور معاشرے کو پر امن بنائیں۔

فی زمانہ لوگ معاشرے کے اس گمراہ چلن سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگوں کو غلط راستے دکھاتے ہیں اور سنت رسول اللہ ّ اور صحابہ رضوان اللہ اجمعین کی صریحا مخالفت کرتے ہوئے لوگوں کے ایمان و یقین تک سے کھیل جاتے ہیں۔

یاد رکھنے کی بات ہے کہ ہمارے اور قرآن کریم اور سنت رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے درمیان صحابہ رضوان اللہ اجمعین کی جماعت ہی وسیلہ و رابطہ ہے ہمیں قرآن و حدیث صحابہ کی مقدس چھلنی سے گذر کر ہی ملے ہیں لہذا صحابہ اور بالخصوص خلفاء راشدین کے متعلق یہ خیال رکھنا کہ انہوں نے خلاف سنت اجہتاد کیے اور فتوی جاری کیا دین کی بنیاد ڈھا دینے کے مترادف ہے۔ جبکہ عقیدہ صحیح ہے کہ تمام کے تمام صحابہ عادل تھے اور امانت دار تھے اور سنت رسول اللہ ّصلی اللہ علیہ وسلم کو دانتوں سےپکڑنے والے تحے اور سنت رسول اللہ ّصلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنے والے نہیں تھے۔

لہذا یہ بے حد ضروری ہے کہ اس مسئلے پر اپنے اپنے حلقہ احباب کو طلاق دینے کا درست طریقہ بتایا جائے تاکہ ایسی صورت پیش ہی نہ آئے کہ جس سے مفاد پرست عناصر فائدہ اٹھانے کے خواب دیکھ سکیں۔

یاد رکھیں طلاق دینے کا مسنون طریقہ جو اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتلایا ہوا ہے ایک بار طلاق دے کر چھوڑ دینا ہے

اکٹھی تین بار طلاق دے دینا سخت گناہ اور نافرمانی کی بات ہے کہ جس سے طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے اور بیوی مرد پر قطعی حرام ہو جاتی ہے

اسی موضوع پر قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک عام فہم اورمفید کتاب کہ جس کے مطالعے سے اس موضوع سے مکمل آگاہی ہو ان شاء اللہ۔

شیاطین، جنات ، جادو ٹونہ، اور ہر طرح کی پریشانیوں و دکھوں سے نجات کا نہایت آسان نسخہ

موجودہ دور میں بے شمار لوگ دکھ درد و تکالیف، شیاطین و جنات کے اثرات کا ذکرکرتے رہتے ہیں اور پھر پیشہ ور لوگوں کے ہتھے چڑھ کر جو کہ درحقیقت انہی شیاطین ہی کے آلہ کار ہوتے ہیں، مزید مشکلات و پریشانیوں میں گھر جاتے ہیں۔ اور اس طرح سے مسائل بجائے حل ہونے کے اور بڑھ جاتے ہیں۔

حالانکہ اس کا حل بہت ہی سادہ اور آسان اور منطقی ہے۔۔۔۔۔۔ شیطان کا مقابلہ کرنے کا سب سے آسان طریقہ ہے رحمان سے پناہ طلب کرنا۔ جیسے ہی خدانخواستہ کسی پریشانی کا شکار ہوں فورآ گناہوں سے توبہ کر کے رجوع الی اللہ ہو جائیں اور اپنے آپ کو اللہ سبحان و تعالیٰ کی پناہ میں دے دیں۔ اس کے سوا جادو ٹونہ و شیاطین ے مقابلے کا اور کوئی طریقہ نہیں۔ دیکھیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں شیطان سے بچاؤ کا کیا طریقہ بتایا ہے کہ کس سے پناہ طلب کرنی ہے، کس سے مدد مانگنی ہے اور کیسے مانگنی ہے:

سو جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ 16 النحل 98

اور کہو کہ اے پروردگار میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ 23 المؤمنون 97

اور اے پروردگار اس سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ وہ میرے پاس آ موجود ہوں۔ 23 المؤمنون 98

کہو کہ میں صبح کے مالک کی پناہ مانگتا ہوں۔ 113 الفَلَق 1

کہو کہ میں انسانوں کے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں۔ 114 النَّاس 1

مزید دیکھیے اللہ سبحان و تعالیٰ مثالوں سے بیان کرتے ہیں اللہ کے رسول علیہ اسلام کیسے شیطان مردود کے شر سے بچنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں۔

اور کہنے لگیں میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ 3 آل عمران 36

اور نوح کا قصہ بھی یاد کرو جب اس سے پیشتر انہوں نے ہمیں پکارا تو ہم نے انکی دعا قبول فرمائی اور انکو اور انکے ساتھیوں کو بڑی گھبراہٹ سے نجات دی۔ 21 الانبیآء 76

اور زکریا کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو تو سب سے بہتر وارث ہے۔ 21 الانبیآء 89

اور ہم کو نوح نے پکارا سو دیکھ لو کہ ہم دعا کو کیسے اچھے قبول کرنے والے ہیں۔ 37 الصّٰفّٰت 75

اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو جب انہوں نے اپنے رب کو پکارا اور کہا کہ شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف دے رکھی ہے۔ 38 صٓ 41

تو بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئ کہ جب بھی کوئی تکلیف پہنچے یا شیاطین سے خطرہ ہو فورا اللہ سبحان و تعالیٰ سے پناہ طلب کیجئے۔

کوشش کیجیے کہ ہر وقت با وضو رہیے پاک صاف رہیے یاد رکھیے اللہ سبحان و تعالیٰ پاک ہیں اور پاکی کو ہی پسند کرتے ہیں۔

اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو۔ 2 البقرۃ 125
اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ 9 التوبۃ 108

کچھ شک نہیں کہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ 2 البقرۃ 222

کہ یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے۔ ۵۶ الواقعہ ۷۷
جو کتاب محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ۵۶ الواقعہ ۷۸
اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک ہیں۔۵۶ الواقعہ۷۹

نماز پنجگانہ اپنے وقت پر ادا کیجئے اور نہایت اہتمام سے تلاوت قرآن پاک کیجیے۔ یاد رکھیے ایک افسانے کے پڑھنے اور قرآن کے پڑھنے میں اتنا ہی فرق ہے جتنا ذرہ کو آفتاب سے نسبت ہے۔

پاک صاف اور با وضو ہو کر پڑھیے چاہے بہت ہی تھوڑا پڑھیے مگر پڑھیے ضرور اور کوشش کیجیے ترجمہ و تفسیر پر غور کرتے رہیے اور بار بار پڑھیے، آپ اس کو جتنی بار پڑھیں گے اور جتنے اہتمام سے پڑھیں اس کے مطالب و مفاہیم آپ کو اتنی ہی تیزی سے القا ہوتے رہیں گے۔

اسی سلسلے میں قرآن کی منتخب آیات پر مشتمل منزل پیش کی جارہی ہے جس کو پڑھنا روزمرہ کے معمولات میں شامل کر لیا جائے تو فوائد دوچند اور لازما حاصل ہوں گے، منزل میں آیات کے ساتھ ترجمہ بھی دیا گیا کوشش کیجیے کہ پڑھتے وقت ہر ہر لفظ کا ترجمہ ذہن میں رہے پھر دیکھیے آپ کو کتنی لذت اور سرور حاصل ہوتا ہے ۔زیادہ تر آیات ایسی ہیں جو ایک اوسط درجے کے مسلمان کو زبانی یاد ہوتی ہیں اور معمولی سی کوشش کے ساتھ کوئی بھی ان کو زبانی یاد کر سکتا ہے اور پھر چلتے پھرتے اللہ سبحان و تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کیجیے۔

اور کیا بدلہ ہے نیکی کا مگر نیکی


یعنی نیک بندگی کا بدلہ نیک ثواب کے سواکیا ہوسکتا ہے۔ ان جنتیوں نے دنیا میں اللہ کی انتہائی عبادت کی تھی۔ گویا وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ اللہ نے ان کو انتہائی بدلہ دیا۔ فَلَا تَعۡلَمُ نَفۡسٌ مَّاۤ اُخۡفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعۡیُنٍ(سجدہ۔۱۷)۔ شاید اس میں دولت دیدار کی طرف بھی اشارہ ہو۔ واللہ اعلم۔